Congress

کیا ہندوستانی مسلم رائے دہندگان کو متبادل حکمت عملی کی ضرورت ہے؟

مودی کے رتھ کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ دارکانگریس ہے، جس کی من مانی اور زیادہ سے زیادہ سیٹیں لڑنے کی ضد نے سیکولر اتحاد کی کامیابی میں روڑے اٹکائے۔اب یہ اہم سوال مسلمانوں کے سامنے ہے کہ کیا وہ سیکولر پارٹیوں کا دامن تھامے رکھیں، جنہیں ان کی تعلیم و ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں اور جو ان کو صرف ووٹ بینک کی نظر سے دیکھتے ہیں یا جنوبی صوبہ کیرالا کا ماڈل اپنا لیں؟

بہار: نتیش کمار ساتویں بار بنے وزیر اعلیٰ، دو نائب وزیر اعلیٰ بنائے گئے

بہاراسمبلی انتخاب میں125 سیٹیں حاصل کرکےاکثریت پانے والی این ڈی اے گٹھ بندھن نے 15سالوں تک نائب وزیر اعلیٰ رہےسشیل مودی کی جگہ بی جے پی کے دورہنماؤں تارکشور پرساد اور رینو دیوی کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا ہے۔ نتیش کمار کے ساتھ کل 14وزیروں نے حلف لیا ہے۔

کانگریس تبدیلیوں کو لے کر سنجیدہ نہیں، شاید پارٹی نے ہر ہار کو مقدر مان لیا ہے: کپل سبل

سینئر کانگریسی رہنما کپل سبل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اب لوگ کانگریس کو ایک مؤثر متبادل نہیں مان رہے ہیں۔ سبل کانگریس کے ان 23رہنماؤں میں سے ایک ہیں ،جنہوں نے صدرسونیا گاندھی کوخط لکھ کر پارٹی میں تبدیلی لانے، جوابدہی طے کرنے اور ہار کا صحیح تجزیہ کرنے کامطالبہ کیا تھا۔

بہار: مہاگٹھ بندھن کی ہار پر آر جے ڈی رہنما نے راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا، کانگریس کا جوابی حملہ

بہاراسمبلی انتخاب میں کانگریس کے خراب مظاہرہ پر آر جے ڈی کے سینئررہنما شیوانند تیواری نے کہا کہ گٹھ بندھن کےلیے کانگریس رکاوٹ کی طرح رہی، اس نے انتخاب70 سیٹوں پر لڑا، لیکن70 ریلیاں بھی نہیں کیں۔انتخاب کے وقت راہل گاندھی پکنک منا رہے تھے۔

بہار: کیا اویسی واقعی بی جے پی کے ایجنٹ ہیں؟

کیا اویسی کی پارٹی نے بہار انتخاب میں ووٹ کاٹنے کا کام کیا جس سے مہاگٹھ بندھن کو شدید نقصان ہوا؟ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ مجلس نے جن پانچ سیٹوں پر جیت درج کی ہے وہاں اگریہ امیدوار ہی نہیں ہوتے تو مہا گٹھ بندھن کو کامیابی ملتی ؟

بہار کی سیاست میں نتیش کمار کا کوئی متبادل نہیں ہے

جے ڈی یو کو بی جے پی سے کم سیٹیں ملنے کے بعد نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ بننے کو لےکر سوال اٹھ رہے تھے، لیکن ایسی رائے ہے کہ عوام، بالخصوص خواتین کے این ڈی اےکو چننے کا سہرا نتیش کمار کو ہی جاتا ہے، ایسے میں ان کی قیادت میں نئی سرکار کا بننا ناگزیر ہے۔

بہار اسمبلی انتخاب کے بعد بی جے پی حامیوں  نے جلوس کے دوران مسجد میں توڑ پھوڑ کی

مشرقی چمپارن کے جموآ گاؤں کا معاملہ۔الزام ہے کہ بی جے پی حامیوں نے اس دوران کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے مسجد کا مائیک اور اس کے گیٹ توڑ دیے۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

میڈیا بول: بہار انتخابی نتائج کے مضمرات

ویڈیو: بہار اسمبلی انتخاب میں تمام ایگزٹ پول اور اندازے غلط ثابت ہوئے۔ میڈیا بول کےاس ایپی سوڈمیں ارملیش بہار کے غیر متوقع انتخابی نتائج اور ریاست کے سیاسی مستقبل کو لےکر سینئر صحافی اروند موہن اور دی وائر کے پالیٹیکل افیئرس ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے چرچہ کر رہے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخاب: این ڈی اے کو 125 سیٹوں کے ساتھ اکثریت، آر جے ڈی بنی سب سے بڑی پارٹی

بہاراسمبلی کی243 سیٹوں میں سےآر جے ڈی کی قیادت والی مہاگٹھ بندھن کو کل 110 سیٹوں پر جیت ملی ہے۔آر جے ڈی نے 75،بی جے پی نے 74،جے ڈی یو نے 43، کانگریس نے 19، سی پی آئی ایم ایل نے 12 اور اےآئی ایم آئی ایم نے 5 سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ایل جے پی کو صرف ایک سیٹ ہی مل سکی۔

مدھیہ پردیش: قرض ادانہ کر نے پر مبینہ طور پربندھوا مزدوری کر نے والے آدی واسی نوجوان کو زندہ جلایا گیا

مدھیہ پردیش کےگنا ضلع کے آدی واسی نوجوان نے اسپتال میں توڑا دم۔ الزام ہے کہ پانچ ہزار روپے کا قرض ادانہ کر پانے کی وجہ سے آدی واسی نوجوان سے بندھوا مزدوری کرائی جا رہی تھی۔

نتیش کے بہار اسمبلی انتخاب کو اپنا ’آخری انتخاب‘ بتانے کے کیا معنی ہیں

نتیش کمار نے تیسرےمرحلہ کے انتخابی مہم کےآخری دن کہا کہ یہ ان کا آخری انتخاب ہے۔ کیایہ ووٹنگ سے پہلے سیمانچل کے اقلیتوں سمیت ان کے روایتی ووٹرس کی ہمدردی حاصل کرنے کا کوئی انتخابی ہتھکنڈہ ہے یا اس کا کوئی گہرا سیاسی مفہوم ہے؟

بہار اسمبلی انتخاب پر سب کی نظریں کیوں ٹکی ہیں؟

بہارکے انتخابی نتائج کا ہندوستان کے مجموعی سیاسی نقشہ پراثر اندازہونا یقینی ہے۔کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے دوران مہاجربہاری مزدوروں کی مشکلات کا ازالہ کرنے میں ناکامی کی وجہ سے جب بی جے پی نے دیکھا کہ اس کا’وکاس’کا نعرہ کام نہیں کر رہا ہے، تو وہ اپنی سابقہ روش پر اتر آئی ہے۔

خصوصی ریاست کا درجہ ملنے پر ہی بہاریوں کو بے روزگاری اور غریبی سے نجات ملےگی: کے سی تیاگی

انٹرویو:بہار اسمبلی انتخاب سے پہلے بنتے بگڑتے سیاسی گٹھ جوڑ کے بیچ جے ڈی یو کے قومی ترجمان کے سی تیاگی کا دعویٰ ہے کہ این ڈی اے دوبارہ اقتدارمیں آ رہی ہے اور نتیش کمار ہی وزیراعلیٰ بنیں گے۔ ان سے وشال جیسوال کی بات چیت۔

کانگریس سے استعفیٰ دینے کے کچھ گھنٹے بعد ہی خوشبو سندر بی جے پی میں شامل

کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد کانگریس نے خوشبو سندر کو پارٹی کےقومی ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ تمل اداکارہ سندر 2014 میں کانگریس میں شامل ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ڈی ایم کے میں تھیں۔

مودی کے انکار کے باوجود کیوں ڈٹینشن سینٹر بنا رہی ہے یوپی سرکار؟

ویڈیو: وزیراعظم نریندر مودی نے دسمبر 2019 میں کہا تھا کہ کوئی ڈٹینشن سینٹر نہیں ہے۔ اس کے باوجود غازی آباد کے نندگرام میں مبینہ طور پر ڈٹینشن سینٹر بنایا جا رہا تھا۔بی ایس پی چیف مایاوتی کے وزیراعلیٰ رہتےہوئے بنے ایک ہاسٹل کو ڈٹینشن سینٹر بنائے جانے پر انہوں نے ٹوئٹ کر کےاس کو دوبارہ ہاسٹل بنانے کی مانگ کی۔ دی وائر کے شیکھر تیواری کی یہاں کےطلبا سے بات چیت۔

کیا بہار انتخاب سے عین پہلے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے کا دوسری بار رضا کارانہ ریٹائرمنٹ لینا محض اتفاق ہے

بہار کے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے نے سال 2009 میں پہلی بار وی آرایس لیا تھا اور تب چرچہ تھی کہ وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے، حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ اب اسمبلی انتخاب سے کچھ ہی مہینے پہلے ان کے دوبارہ وی آرایس لینے کے فیصلے کو ان کے سیاسی عزائم سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔

بی جے پی کیوں چاہتی ہے سشانت کے مدعے پر ہو بہار انتخاب؟

ویڈیو: اسمبلی انتخاب نزدیک آتے ہی بہار کی سیاست گرمانے لگی ہے۔ آرجےڈی کےقدآوررہنما رگھوونش پرساد سنگھ نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سشانت سنگھ کی موت کو بھی مدعا بنایا جا رہا ہے۔ اس پر دی وائر کے پالیٹیکل افیئرس ایڈیٹر اجئے آشیرواد اور سیاسی مبصر سجن کمار سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

بہار: 15 سال اقتدار میں رہ چکی بی جے پی کے لیے سشانت سنگھ راجپوت کی موت انتخابی مدعا کیوں ہے؟

سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے کی جانچ سی بی آئی، ای ڈی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کر رہے ہیں اور تینوں ہی مرکزی حکومت کےماتحت ہیں۔ مرکز اور بہار میں این ڈی اے کی ہی سرکار ہے۔ ایسے میں سوال ہے کہ ‘جسٹس فار سشانت سنگھ راجپوت’ہیش ٹیگ چلاکر بہار میں بی جے پی جسٹس کس سے مانگ رہی ہے؟

سی اے جی کے دفاعی آڈٹ میں رافیل ڈیل کی جانچ شامل نہیں: میڈیا رپورٹ

ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2019 میں کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل(سی اے جی) کے ذریعے سونپی گئی پرفارمنس آڈٹ رپورٹ میں سی اے جی نے صرف بارہ دفاعی آفسیٹ سودوں کا تجزیہ کیا ہے۔وزارت دفاع نے آڈیٹر کورافیل آفسیٹ سودے سے متعلق کوئی جانکاری ہونے سے انکار کیا ہے۔

دہلی پولیس کے پاس طاہر حسین کو فسادات سے جوڑ نے کا کوئی ثبوت نہیں: وکیل

گزشتہ دنوں دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ عآپ کےسابق کونسلر طاہرحسین نے شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں شامل ہونے کی بات قبول کرلی ہے۔حسین کے وکیل جاوید علی کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے کبھی اس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا۔ پولیس کے پاس اپنے دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

کرناٹک: اپوزیشن کی مخالفت کے بعد نصاب سے ٹیپو سلطان اور اسلام سے متعلق ابواب ہٹانے پر روک

ریاستی حکومت نے کووڈ 19 کا حوالہ دیتے ہوئے پہلی سے 10ویں جماعت کےنصاب کو محدود کرنے کے لیے اسلام، عیسائی مذہب اورٹیپو سلطان سے متعلق ابواب ہٹانےکی تجویز رکھی تھی۔ اس پر اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا تھا کہ سرکار اپنے رائٹ ونگ ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔

دہلی فسادات: ایل جی کے آرڈر پر پیروی کے لیے سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ سمیت چھ وکیلوں کی تقرری

دہلی سرکار نے اس سے پہلے دہلی پولیس کی جانب سے بتائے گئے وکیلوں کے ناموں کوقبول کرنے سے منع کر دیا تھا۔ایل جی انل بیجل نے سرکار کے آرڈر کو خارج کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے بھیجے گئے وکیلوں کے نام کو قبول کرنے کو کہا۔

دہلی فسادات: جب راجدھانی تشدد کی آگ میں جل رہی تھی، تب وزیر داخلہ اور وزارت کیا کر رہے تھے؟

خصوصی مضمون: فروری کےآخری ہفتے میں شمال مشرقی دہلی میں جو کچھ بھی ہوا اس کی اہم وجہوں میں سے ایک سینٹرل فورسز کو تعینات کرنے میں ہوئی تاخیرہے۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ کہ تشدد25 فروری کو رات 11 بجے تک ختم ہو گیا تھا،سچ کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا۔

دہلی فسادات : وکیلوں کی تقرری کے سلسلے میں دہلی سرکار نے پولیس کی تجویز کو خارج کیا

دہلی کابینہ کی میٹنگ میں وکیلوں کی تقرری کے سلسلےمیں دہلی پولیس کی تجویز کو نامنظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ دنگا معاملے میں پولیس کی جانچ کو عدالت نے غیرجانبدارنہیں پایا ہے، اس لیے پولیس کے پینل کو منظوری دی گئی، تو معاملوں کی غیرجانبدارشنوائی نہیں ہو پائےگی۔

آسام: اکھل گگوئی کی رہائی اور سی اے اے واپس لینے کی مانگ کو لے کر پوری ریاست میں مظاہرہ

گزشتہ سال ہوئےسی اے اےمخالف مظاہروں کے معاملے میں گرفتار ہوئے کرشک مکتی سنگرام سمیتی کے رہنما اکھل گگوئی گوہاٹی جیل میں کوروناپازیٹو پائے گئے ہیں۔منگل کو کے ایم ایس ایس نے ان کی رہائی اورسی اے اے کو واپس لینے کے لیے پورے آسام میں مظاہرہ کیا ہے۔

چھتیس گڑھ: کمرے میں بند 43 گایوں کی دم گھٹنے سے موت، سرپنچ سمیت کئی دیگر پر معاملہ درج

معاملہ بلاسپور ضلع کا ہے۔ضلع کلکٹر نے بتایا کہ گاؤں کے پرانے پنچایت بھون میں لگ بھگ 60 گایوں کو بند کرکے رکھا گیا تھا۔ بدبو پھیلنے پر جب کمرہ کھولا گیا، تب 43 گایوں کی موت ہو چکی تھی۔

الیکشن کمیشن پر الزام، مہاراشٹر انتخاب میں سوشل میڈیا کی ذمہ داری بی جے پی سے وابستہ ایجنسی کو دی تھی

آر ٹی آئی کارکن ساکیت گوکھلے کا الزام ہے کہ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل افسر نے جس ایجنسی کو الیکشن کمیشن کےسوشل میڈیاکا ذمہ سونپا تھا، وہ بی جے پی کے یوتھ ونگ کے آئی ٹی سیل کے کنوینر دیوانگ دوے کی ہے۔

دہلی فسادات کا سچ: پولیس چارج شیٹ بنام دہلی اقلیتی کمیشن

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں فروری میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے جون میں عدالت میں دائر کئی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد نریندرمودی سرکار کو بدنام کرنے کی سازش کا نتیجہ تھا۔ اس مدعے پر سپریم کورٹ کے وکیل ایم آر شمشاد سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

دہلی تشدد: کئی کیس فری میں لڑ نے والے ایک وکیل، کیوں اٹھا رہے ہیں جانچ پر سوال؟

ویڈیو: فروری میں ہوئے دہلی فسادات سے متعلق تقریباً50 کیس وکیل عبدالغفار اکیلے لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ آدھے کے لیے وہ فیس بھی نہیں لے رہے۔ دہلی فسادات میں ہو رہی جانچ اور گرفتاریوں پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں۔ عبدالغفار کا بھی ماننا ہے کہ جانچ میں شواہد سے پہلے ایک نیریٹو سیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

’نریندر مودی کا کوئی صلاح کار گروپ  نہیں، صرف چاپلوسی گروپ ہے‘

ویڈیو: راجستھان میں کانگریس رہنما سچن پائلٹ کی بغاوت اور گہلوت سرکار کے بحران میں پڑنے سے سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر چنی ہوئی سرکاروں کو خوف یا لالچ سے گرایا جا سکتا ہے اور اپنی من مرضی کی پارٹی کی سرکار کو بنایا جا سکتا ہے تو پھر جمہوریت میں انتخابات کے معنی ہی کیا رہ گئے؟ جانے مانے مؤرخ رام چندر گہا سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

تمل ناڈو: پیریار کے مجسمہ پر بھگوا رنگ ڈالا، معاملہ درج

معاملہ کوئمبٹور کے سندرپورم علاقے کا ہے، جہاں جمعرات کی دیر رات سماجی مصلح پیریار کےآدم قد مجسمہ کو توڑ پھوڑ کر اس پر بھگوا رنگ ڈال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ڈی ایم کے، ایم ڈی ایم کے اور وی سی کے کے کارکنوں نے مظاہرہ کیا اور ملزمین کی گرفتاری کی مانگ کی۔