گراؤنڈ رپورٹ: اس وقت آسام میں تعلیمی اصلاحات کی سچائی یہی ہے کہ مدارس کو اسکول میں تبدیل کرتے ہوئے ایک بڑی اقلیتی برادری کے تشخص کو کمزور کرنے کی منظم کوشش حکومت کی جانب سےکی گئی ہے۔ اور اس تعلیمی اصلاح کے پس پردہ ڈاکٹر اور انجینئر […]
ہندوستان کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے صرف حکومتیں تبدیل نہیں کیں بلکہ سیاست کے فکری دھاروں، ریاستی شناختوں، مذہبی توازن، وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کے مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
ہندوستانی جمہوریت میں شاید اب ایک نئے موسم کا اضافہ کر دینا چاہیے؛ گرمی، بارش، سردی اور ’انتخابات کے بعد کا موسم قربانی‘۔ انتخابات کے دوران شہری ’وکاس‘ کے نعرے سنیں گے اور انتخابات کے بعد ’صبر و تحمل اور کفایت شعاری‘ کا سبق پڑھیں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کفایت شعاری کی اپیل کے بعد ان کے کئی شہروں کے دوروں پرسوال اٹھ رہے ہیں۔ جس اتوار کو وزیر اعظم نے شہریوں سے’بحران کے وقت‘ میں’اجتماعی قربانی‘ کی بات کہی، اسی دن انہوں نے تین ریاستوں کے چار شہروں میں عظیم الشان اہتمام اور انتظامات والے پروگراموں میں شرکت کی، اور یہ دورے آج بھی جاری ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان عوام سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر کم کرنے، پیٹرول کا کم استعمال کرنے اور ’ورک فرام ہوم‘کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کھانا پکانے کے تیل کی کم کھپت اور کھاد کے کم استعمال کی بھی اپیل کی ہے۔ اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی کو انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا۔
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اور آئینی اداروں پر جانبداری کے الزامات وغیرہ کے حوالے سے جے این یو کی پروفیسر زویا حسن اور سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
غور طلب ہے کہ8 جون 2018 کو بچہ چور ہونے کے شبہ میں ایک ہجوم نے ایک گاڑی کو روک کر ایک موسیقار اور اس کے دوست کو بے دردی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ وہ دونوں پکنک سے واپس آ رہے تھے۔ اب نگاؤں کی ایک خصوصی عدالت نے 20 ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ سزا 24 اپریل کوسنائی جائے گی۔
آسام بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔ تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ ترقی کا ایک متبادل راستہ بھی ممکن ہے۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات طے کریں گے کہ ہندوستان ایک یکساں سیاسی سمت میں آگے بڑھے گا یا اپنی وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔
انتخابی مہم کے دوران آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں تقریباً 50 لاکھ بیگھہ زمین پر ‘غیر قانونی قبضہ’ ہے اور وہ اگلی حکومت بننے کے بعد 5 لاکھ بیگھہ زمین کو خالی کرائیں گے۔
وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی رہنما اسمبلی انتخابات سے قبل ’دراندازوں‘ کو نکالنے کے دعوے کر چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں آسام میں امت شاہ نے’64 لاکھ دراندازوں‘ کے قبضے کا دعویٰ کیا، حالاں کہ اس بارے میں وزارت داخلہ کا جواب بڑے سوال کھڑے کرتا ہے۔ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت نے کہا ہے کہ اس کے پاس دراندازوں سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔
ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی – کیا قانون اجازت دیتا ہے؟
ہمنتا بسوا شرما بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کئی شدت پسند آر ایس ایس کارکنوں سے بھی زیادہ جارح اور مسلم مخالف ہو چلے ہیں۔ انہوں نے اپنے آئینی عہدے کا استعمال ہیٹ اسپیچ کے لیے کیا ہے۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھانے والے ویڈیو پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے شدید اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی پیغامات کے پس پردہ تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ضروری ہے۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بڑے پیمانے پر مذمت کے بعد اس ویڈیو کو ہٹا لیا گیا ہے۔ کانگریس قائدین نے ویڈیو کو ’آئین کے سینے پر گولی‘ قرار دیا ہے۔
گزشتہ 22نومبر کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تمام ضلع حکام کو مبینہ ‘دراندازوں’ کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اب لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے ایک کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس میں سب سے پہلےآسام سے آنے والے اور چھوٹے موٹے کام کر کے روزی کمانے والے 50 سے زیادہ خاندان نشانےپر آ گئے ہیں۔
چالیس سال بعد سوال اب یہ نہیں ہےکہ نیلی میں کیا ہوا؟ بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان اب اس کھلے سچ کے ساتھ کیا کرے گا؟ اگر نیلی کے قاتل سزا پاتے، تو 1984 کا سکھ مخالف قتل عام شاید نہ ہوتا۔ اور اگر سکھوں کے قاتلوں کو فوری سزا ملتی، تو 2002 کے گجرات کے مسلم کش فسادات شاید نہ ہوتے۔ یہ صرف تاریخ نہیں، بلکہ سبق ہے۔
مذہبی آزادی سے متعلق یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم کےتازہ اپڈیٹ بریف میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے، اس کے ساتھ ہی حکمران بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کااتحاد ‘امتیازی’ قوانین کو فروغ دیتا ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر 2025 کو بی جے پی آسام یونٹ نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کیا، جس میں یہ ‘گمراہ کن اور جھوٹا بیانیہ’ پیش کیا گیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں نہیں رہی تو مسلمان آسام پر قبضہ کر لیں گے۔ اس ویڈیو کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آسام کانگریس نے ریاستی بی جے پی کے خلاف پارٹی کے سوشل میڈیا ہینڈل پر پوسٹ کیے گئے ایک اے آئی ویڈیو پر شکایت درج کرائی ہے۔ کانگریس نے بی جے پی کے سوشل میڈیا سیل پر فرقہ وارانہ بدامنی کو بھڑکانے، مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور بوڈو لینڈ ٹیریٹورل کونسل (بی ٹی سی) کے انتخابات کے لیے نافذ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
سیدہ حمید کے پاس آسام کی بے حدخوبصورت یادیں ہیں۔لیکن آج اچانک انہیں یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ وہ عورت ہیں اور مسلمان ہیں۔ان کی تکلیف کون محسوس کرنا چاہتا ہے؟
سی اے اے کا حوالہ دیتے ہوئے آسام حکومت نے ضلع حکام اور فارنرز ٹربیونلز کے ارکان سے کہا ہے کہ وہ 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے ریاست میں داخل ہونے والے ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور پارسی کے کے خلاف مقدمات واپس لیں ۔
بنگلہ دیش سے آئے مبینہ شہریوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے درمیان سینکڑوں بنگالی اور آسامی مزدوروں کو گروگرام پولیس نے حراست میں لے کر ‘ہولڈنگ سینٹر’ میں رکھا ہے۔ ان میں زیادہ تر مرد ہیں۔ صرف 19 جولائی کو 74 مزدوروں کو حراست میں لیا گیا۔
آسام کے حکام نے الیکشن کمیشن کو بتایا ہے کہ چونکہ یہ واحد ریاست ہے جس نے پہلے ہی این آر سی کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے، اس لیے جب بھی الیکشن کمیشن ریاست کی انتخابی فہرست کے ایس آئی آر کے لیے اہلیت کے دستاویز کی فہرست کو حتمی شکل دے تو اس کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے جمعہ کو دھبری میں رات کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ 7 جون کو دھبری کے ہنومان مندر میں ایک جانور کا کٹا ہوا سر ملا تھا، جس کے بعد سے وہاں حالات کشیدہ ہیں۔
آسام سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کے 10 ویں کلاس کے سوشل سائنس کے امتحان میں ایک سوال پوچھا گیا تھا؛ ‘فرض کریں کہ حکومت کسی گاؤں میں ایک اسپتال بناتی ہے جہاں ہندوؤں کا مفت علاج ہو اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اس کا خرچ خود اٹھانا پڑے۔ کیا ہندوستان جیسے ملک میں حکومت ایسا کر سکتی ہے؟ اپنی رائے دیں۔’ کئی لوگوں نے اسے تفرقہ انگیز قرار دیا ہے۔
اب آسام میں آدھار کارڈ جاری کرنے کے لیے این آر سی درخواست نمبر دینا ہوگا۔ چیف منسٹر ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ بنگلہ دیش سے دراندازی تشویشناک ہے، اسی لیے ہمیں اپنے نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ویڈیو: پچھلے ہفتے سپریم کورٹ نے شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 6 اے کے آئینی جواز کو برقرار رکھا۔ یہ دفعہ آسام آنے والے تارکین وطن کو ہندوستانی شہریت دینے کی کٹ آف طے کرنے سے متعلق ہے۔ اس کے اثرات کے بارے میں دی وائر کی نیشنل افیئرز کی ایڈیٹر سنگیتا بروآ پیشاروتی سے میناکشی تیواری کی بات چیت۔
مذہبی آزادی سے متعلق اپنی 2024 کی سالانہ رپورٹ میں امریکی کمیشن نے ہندوستان کو ‘مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے’ کے لیے ‘خصوصی تشویش والے ملک’ کے طور پر فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستان نے کمیشن کو ایجنڈے والا متعصب ادارہ قرار دیا ہے۔
‘بلڈوزرکارروائی’ کے خلاف دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ جب تک اس سلسلے میں رہنما خطوط طے نہیں ہو جاتے، تب تک اس کے سابقہ فیصلے کے مطابق اس طرح کی کارروائیوں پر پابندی جاری رہے گی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے بلڈوزر کارروائی پر عبوری روک لگائے جانے کے باوجود آسام میں 47 لوگوں کے گھروں پرسرکار کی ہدایت پر بلڈوزر چلائے گئے، جس کے بعد ان لوگوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اس کارروائی کو آرٹیکل 14، 15 اور 21 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کہا ہے۔
منی پور میں تشدد کے درمیان کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے دیگر ریاستوں میں سیاسی ریلیاں کر رہے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کے اس رویے کو آئینی ذمہ داریوں سے منھ موڑنا قرار دیا ہے۔
یہ شکایت آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھوپین بورا اور آسام جاتیہ پریشد کے لورین جیوتی گگوئی نے متحدہ اپوزیشن فورم کی جانب سے درج کرائی ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ میاں مسلمانوں کو آسام پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔
گزشتہ ہفتے ہمنتا بسوا سرما نے گوہاٹی میں آئے اچانک سیلاب کے لیے میگھالیہ کے ری-بھوئی ضلع میں واقع میگھالیہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے تعمیراتی کام کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کا گیٹ ‘مکہ’ جیسا بنایا گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سنتوش گنگوار کو جھارکھنڈ کا گورنر بنایا گیا ہے۔ چھ بار کے ایم پی گنگوار کو لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہیں ملا تھا۔ ان کے علاوہ تریپورہ کے سابق نائب وزیر اعلیٰ جشنو دیو ورما، سابق راجیہ سبھا ایم پی او پی ماتھر، سابق لوک سبھا ایم پی سی ایچ وجئے شنکر کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔
سال 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق کیس میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکالر شرجیل امام اور دیگر کی درخواست ضمانت پر شنوائی کر رہی دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس پرتبھا سنگھ اور جسٹس امت شرما کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ معاملے کو ایسی بنچ کے سامنے درج کیا جائے جس کے ممبرجسٹس شرما نہ ہوں۔
منی پور کے جیری بام ضلع میں 6 جون کو ایک شخص کے وحشیانہ قتل کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا، جہاں ایک مشتعل ہجوم نے دو پولیس چوکیوں، محکمہ جنگلات کے ایک دفتر اور کم از کم 70 گھروں کو نذر آتش کر دیا تھا، تشدد کے بعد تقریباً 2000 لوگوں نے آسام میں پناہ لی ہے۔
آئی آئی ٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے شرجیل امام جنوری 2020 سے جیل میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ سے سیڈیشن کے ایک معاملےمیں ضمانت ملنے کے باوجود وہ جیل میں ہی رہیں گے کیونکہ ان پر دہلی فسادات سے متعلق ایک کیس میں یو اے پی اے کے تحت الزام لگائے گئے ہیں۔
کریم گنج پارلیامانی حلقہ کے ایک مسلم اکثریتی گاؤں کے لوگوں نے آسام کے محکمہ جنگلات کے افسران اور ملازمین پر الزام لگایا ہے کہ وہ انہیں مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے یا ‘بلڈوزر کارروائی’ کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
لوک سبھا انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 26 اپریل کو آسام، بہار، چھتیس گڑھ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، منی پور، راجستھان، تریپورہ، اتر پردیش، مغربی بنگال اور جموں و کشمیر کی کل 89 سیٹوں پر ووٹنگ ہونی ہے۔ اس مرحلے میں نریندر مودی کابینہ کے تین وزراء، دو سابق وزرائے اعلیٰ، دو سابق وزرائے اعلیٰ کے بیٹوں سمیت کئی بڑے لیڈروں کی عزت داؤ پر ہے۔
ویڈیو: ہمنتا بسوا شرما کی قیادت والی آسام کی بی جے پی حکومت پر لگاتارفرقہ پرستی کو بڑھانے کا الزام لگتا رہا ہے اور لوک سبھا انتخابات سے پہلے ان کے مختلف بیان اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ دوسری جانب سی اے اے قوانین کو مطلع کیے جانے کے بعد مقامی لوگ ناراض ہیں اور اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ وہاں کے انتخابات میں کون سے ایشوز مؤثر ہوں گے، اس بارے میں دی وائر کی سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی سے بات کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔